نئی دہلی:9/اپریل (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )ملک میں نام نہاد گؤ رکشک تنظیموں کی طرف کی جارہی غنڈہ گردی پر اٹھے ہنگامے کے درمیان آرایس ایس چیف موہن بھاگوت نے پورے ملک میں گؤ کشی پر پابندی لگانے والے قانون کی وکالت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ گؤ کشی کے نام پر کوئی بھی تشدد ہدف کو نقصان پہنچاتا ہے، قانون پر ہر حال میں عمل کیاجاناچاہیے۔بھاگوت نے دہلی میں مہاویر جینتی کے موقع پر منعقد ایک پروگرام میں کہاکہ ہم ملک بھر میں گؤ کشی پر پابندی لگانے والاقانون چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گؤ کشی کے نام پر کوئی بھی تشدد ہدف کو بدنام کرتا ہے اور قانون پر عمل کرنا ہی چاہیے لیکن ساتھ ہی آر ایس ایس سربراہ نے یہ بھی کہا کہ قانون پر عمل کرتے ہوئے گائے کی حفاظت کرنے کا کام جاری رہناچاہیے۔بھاگوت کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب نام نہاد گؤ بھکتوں کی طرف سے راجستھان میں پہلو خان نامی ایک شخص کو ہلاک کرنے سے پورے ملک میں سیاسی بھونچال مچا ہوا ہے۔سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر سچن پائلٹ نے اس معاملے پر بی جے پی کو گھیرتے ہوئے کہا کہ اینٹی رومیو اسکواڈ ہو، لو جہاد ہو، گؤ رکشکو ں کے غیر قانونی کام ہو یا مذبح کے خلاف کارروائی ہو، ان سب باتوں سے ایک بات صاف ہے کہ بی جے پی حکومت پورے ملک پر زبردستی اپنے نظریات کو تھوپنے کے کام کو بہت تیزی سے آگے بڑھارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا اصلی ایجنڈا اب کھل کر ملک کے سامنے آ رہا ہے۔پائلٹ نے کہاکہ الور میں پیٹ پیٹ کر کئے گئے قتل کے بارے میں افسوس یا ہمدردی کا ایک لفظ بھی بولا نہیں کیا گیا۔وزیر اعلی کو نام نہاد گؤ رکشکو ں اور ان کی پر تشدد کاروائیوں کے خلاف بولنا چاہیے، کیا وہ بولیں گی؟۔